18 جون 2012 - 19:30

ماسکو ميں ايران اور گرپ پانچ جمع ايک کے دو روزہ مذاکرات مکمل ہوگئے - مذاکرات روسي وزارت خارجہ کي ميزباني ميں پير کو شروع ہوئے - پير کو مذاکرات کے دو دور ہوئے اور منگل کو مذاکرات کا تيسرا دور انجام پايا -

ابنا: ماسکو ميں پانچ جمع ايک گروپ کے درميان مذاکرات کا پہلا دور پير کو انجام پايا جبکہ دوسرا دور منگل کو دوپہر کے بعد شروع ہوا ہے -

  ماسکو مذاکرات کے پہلے دور کے بعد يورپي يونين کے شعبہ خارجہ پاليسي کے ترجمان مائيکل مين نے کہا ہے ماسکو مذاکرات ميں فريقين نے پہلي بار ايک دوسرے کي پيش کردہ تجاويز پر بات چيت کي ہے- يورپي يونين کے شعبہ خارجہ کي پاليسي کي سربراہ کيتھرين اشٹن کے ترجمان نے کہاکہ پانچ جمع ايک گروپ نے ان مذاکرات ميں بغداد ميں  ايران کي طرف سے پيش کردہ پانچ نکاتي تجويز پربات چيت کي  ہے -

    ايران کي اعلي قومي سلامتي کونسل کے ڈپٹي سکريٹري علي باقري نے بھي ماسکو ميں پہلے دور کے مذاکرات کے بعد کہا کہ مسز اشٹن نے چھے  ملکوں کي نمائندگي ميں ايران کي مذاکراتي ٹيم کے سربراہ سعيد جليلي سے کہا کہ منگل تک موقع ديا جائے  تاکہ ايران کي تجويز کا جائزہ لے کر اس سلسلے ميں کسي نتيجے پر پہنچا جائے   -

  يورينيم کي افزودگي کے ايران کے حق کو تسليم کيا جانا ، ايٹمي ہتھياروں کي ساخت کو حرام قرارديئے جانے پر مبني قائد انقلاب اسلامي کے فتوے پر تاکيد ، پابنديوں کا خاتمہ ، پرامن مقاصد کے لئے توانائي کي پيداوار کے شعبے ميں جوہري تعاون ، بحالي اعتماد کي جانب قدم آگے بڑھانا اور غير ايٹمي موضوعات منجملہ انسداد منشيات اور علاقائي مسائل ميں باہمي تعاون يہ وہ موضوعات ہيں جو ايران کي طرف سے ان مذاکرات ميں تجويز کے طور پر پيش کئے گئے اور اس بات پر زور ديا گيا کہ ان موضوعات کو مذاکرات کے ايجنڈے ميں شامل کيا جائے -

    اس ميں شک نہيں کہ مغرب نے گذشتہ دس سال کے عرصےميں اپني مخاصمانہ پاليسيوں کے تحت غير منطقي طريقے سے ايران کے ايٹمي پروگرام کو بہانہ بنا کر جس مسئلے کو ايران پر مسلط کرنے کي کوشش کي ہے وہ بہت ہي پيچيدہ ہے -  اسي لئے اس بات کي توقع نہيں رکھني چاہئے کہ يہ مسئلہ ايک يا  چند دور کے مذاکرات ميں اتني آساني سے حل ہوجائے گا - ان مسائل کو حل کرنے کے لئے وقت اور ماہرانہ کام نيز آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کي ضرورت ہے اور خاص طور ايک ايسے وقت جب بعض عناصر ان مذاکرات کو ناکام بنانے کي بھرپور کوشش کررہے ہيں - صہيوني  حکام کے غير ذمہ دارانہ بيانات کہ جن کي توقع  بھي کي جارہي تھي ان مذاکرات کومخدوش کرنے کي ايک نماياں کوشش ہے -

    ماسکو مذاکرات کے آغاز سے ہي صہيوني حکام نے بارہا ان مذاکراتي عمل ميں کھلي مداخلت کرکے يہ کہا ہے کہ مغرب کو چاہئے کہ وہ  ايران کے خطرات کو برملا کرے -  اسي کے ساتھ صہيوني روزنامہ ہاآرتص نے اس سلسلے ميں لکھا ہے  کہ ماسکو مذاکرات کے بعد مغربي ملکوں کے نمائندے تل ابيب آئيں گے اور اسرائيلي حکام کو ان مذاکرات کي تفصيلات سے آگاہ کريں گے -.......

/169